ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / یوگی کادو ٹوک: تھانوں میں غنڈہ گیری نہ کریں ارکان اسمبلی، افسروں پر بھی سوشل میڈیاپرتبصرہ کرنے کی بندش

یوگی کادو ٹوک: تھانوں میں غنڈہ گیری نہ کریں ارکان اسمبلی، افسروں پر بھی سوشل میڈیاپرتبصرہ کرنے کی بندش

Fri, 31 Mar 2017 02:06:02    S.O. News Service

لکھنؤ:30/مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کہتے ہیں اقتدار کا نشہ بہت سے لوگوں کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔ ایسا ہی کچھ دیکھنے کو ملا ایٹاوہ میں، جہاں بھرتھ نا سیٹ سے بی جے پی ممبر اسمبلی ساویتری کٹھیریا کے بیٹے دھرمیندر پولیس تھانے میں رعب دکھاتے نظر آئے۔ میڈیا میں یہ خبر آنے کے بعد وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے پارٹی ممبران اسمبلی کو سخت ہدایت دی ہے۔دراصل ہوا یہ تھا کہ بی جے پی ممبر اسمبلی کے بیٹے دھرمیندر نے تھانے میں صفائی کو لے کر پولیس اہلکار کو ڈانٹ لگائی۔ وہیں جب ان لوگوں نے سوال کیا وہ کس حیثیت سے اس طرح تھانے میں رعب جھاڑ رہے ہیں ۱تو دھرمیندر نے کہا کہ یوگی جی نے اسے ایسا کرنے کو کہا ہے۔اس سے پہلے یوپی کے شاہ جہاں پور علاقے میں بھی ممبر اسمبلی کے بیٹے کی غنڈہ گردی کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ یہاں علاقے کے بی جے پی ممبر اسمبلی روشن لال ورما کے بیٹوں کی دبنگئی کو لے کر اس طرح کی شکایت آئی تھی کہ نگوہی تھانے کے ایس او سے لے کر سپاہیوں تک کل 18 پولیس والوں نے ان سے پریشان ہوکر ایس پی سے تبادلے کی فریاد کی تھی۔سی ایم یوگی نے بی جے پی پارٹی اراکین کی میٹنگ میں ان تھانوں اور حکام کے ساتھ غنڈہ گیری نہیں کرنے کو کہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ممبران اسمبلی کو سوشل میڈیا سے محتاط رہنے کو کہا ہے۔
وزیر اعلی نے اپنے ممبران اسمبلی اور وزراء سے سخت لہجے میں کہاکہ رہائش گاہ کولے کر کوئی غنڈہ گیری نہ کرے، جسے جو رہائش گاہ الاٹ ہوئی ہے، اسی میں رہیں۔ انہوں نے پارٹی ممبران اسمبلی سے سرکاری رہائش گاہ کو زیادہ سجانے سنوارنے پر خرچ نہ کرنے کو کہا اور نصیحت کی کہ جیسا بھی گھر ملا اسی میں عام بی جے پی کے کارکنوں کی طرح رہے۔
سی ایم یوگی نے ممبران اسمبلی اور وزراء کے علاوہ سرکاری حکام کے لئے بھی نئی گاڈلان جاری کی۔ اس میں ان سے آفیشیل معاملات کو لے کر سوشل میڈیا پر تبصرے نہیں کرنے کی خاص ہدایت دی ہے۔یوگی حکومت نے لکھنؤ میں تعینات آئی پی ایس افسر ہمانشو کمار کے کیس کے بعد کی یہ سخت ہدایات دی ہیں۔ ہمانشو نے سینئر افسران پر ذات پات امتیاز کا الزام لگاتے ہوئے ٹوئٹ کیا تھا کہ یہاں یادونام والے پولیس اہلکاروں کو معطل یا لائن میں حاضرکرنے کی سینئر افسران میں کھلبلی مچی ہے۔


Share: